بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے چیف آف اسٹاف نے آج صبح (پیر 28 ستمبر کو) شہداء، جانبازوں (جنگ میں معذور ہونے والے افراد) نیز ایثارگروں (غازیوں) کے خاندانوں کی تعظیم کی تقریب میں، شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے کیا اور ان کے خاندانوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا: مجھے فخر ہے کہ آج اس باوقار تقریب میں شہداء، جانبازوں اور ایثارگروں کے معزز خاندانوں کی خدمت میں حاضر ہوں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے چیف آف اسٹاف، ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے کہا:
آج ہفتۂ دفاع مقدس کا چھٹا دن ہے۔ یہ ہفتہ دفاع پوری ایرانی قوم کا ہفتہ ہے؛ وہ قوم جس نے ایثار اور قربانی سے آٹھ سالہ مقدس دفاع کو عزت کے ساتھ مکمل کیا۔
آٹھ سالہ مقدس دفاع پر کون سی اقدار حاوی تھیں؟
ہمیں یہ جانچنا چاہئے کہ آٹھ سالہ دفاع مقدس پر کون سی اقدار حاوی تھیں۔ شاید اس تقریب میں ان لوگوں کی تعداد کم ہو جنہوں نے اس دور کو قریب سے دیکھا، لیکن ہمیں اس دور کی طرف لوٹنا چاہئے، دفاع مقدس کے بارے میں منقولہ روایات کو دوبارہ سننا چاہئے، دستاویزات کو پڑھنا چاہئے اور تحقیق کرنی چاہئے کہ اس دور پر کون سی اقدار حاوی تھیں۔
دشمن کا ہدف یہ تھا کہ ایک دن میں خرمشہر پر قبضہ کر لے، تین دن میں آبادان پر قبضہ کر لے اور جنگ کے ساتویں دن تہران کے آزادی چوک پر پہنچ کر صحافیوں کو انٹرویو دے؛ لیکن کس چیز نے دشمن کو خرمشہر کی دیواروں کے پیچھے 34 دن تک روکے رکھا؟
آٹھ سالہ مقدس دفاع میں 27 ممالک کے قیدیوں کی موجودگی
عراقی فوج مکمل طور پر مسلح تھی اور دنیا کے جدید ترین ہتھیار اس کے پاس تھے۔ اس کے پاس 450 سے زیادہ جنگی طیارے اور 12 تیار اور کیل کانٹے سے لیس ڈویژن تھے، اس کو مکمل معلومات، وسیع سہولیات اور خطے کے کچھ ممالک کی بھرپور مالی مدد حاصل تھی اور یہاں تک کہ دوسرے ممالک کے انسانی وسائل کو بھی استعمال کر رہی تھی۔
دشمن نے ایران کے سازوسامان کو پہچانا لیکن ایرانی عوام کو نہیں پہچانا
عراقی بعث حکومت کو وسیع پیمانے پر بیرونی حمایت حاصل تھی۔ جنگ کے بعد، جب دشمن کے قیدی رہا ہو رہے تھے، ان میں 27 ممالک کے لوگ موجود تھے۔ دشمن کو حمایت کا ایک سلسلہ فراہم کیا گیا تھا تاکہ وہ ایک دن میں خرمشہر پر اور تین دن میں آبادان پر قبضہ کرے اور ساتویں دن تہران پہنچنے پر اپنے اہداف کو حاصل کر سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ